بٹ کوائن کی قیمت میں اچانک 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور یہ $75,000 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس تیزی کی وجہ مارکیٹ میں شارٹ پوزیشنز کی لیکویڈیشنز میں اضافہ اور تکنیکی عوامل ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں سے بٹ کوائن کی قیمت $68,000 سے $75,000 کے درمیان محدود رہی تھی، جو کہ امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ، جس نے $100 فی بیرل کی حد عبور کی ہے، نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس کے باوجود بٹ کوائن نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا اور $70,000 کی سطح کے اوپر مستحکم رہا۔
اس دوران، ایک بڑی کمپنی نے اپنے ای ٹی ایم پروگرام کے ذریعے ایک دن میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی ٹریڈنگ کی، جس سے تقریباً 10,834 بٹ کوائن کی خریداری ممکن ہوئی۔ اس پروگرام نے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاری کی رفتار کو بڑھایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تیزی بٹ کوائن کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن عالمی سیاسی اور معاشی حالات کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ ہفتوں میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار عالمی واقعات اور مالیاتی پالیسیوں پر ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine