بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو 68,000 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی ہے، جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ اس کشیدگی نے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث سرمایہ کار خطرے سے بچنے کی پوزیشن اختیار کر رہے ہیں۔ بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 2.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے اور دیگر ڈیجیٹل اثاثے بھی دباؤ میں ہیں۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر وہ امریکی مطالبات پر عمل نہ کرے تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر ہرمز کے تنگ راستے سے متعلق۔ اس بیان نے تیل، اسٹاکس اور کرپٹو کرنسی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کے ساتھ مارکیٹ میں کمزور طلب اور کم خریداروں کی موجودگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے قیمت 74,000 سے 75,000 ڈالر کی مزاحمتی سطح کو عبور نہیں کر پا رہی۔ اس کے علاوہ، آپشنز ٹریڈنگ کی وجہ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ مزید بڑھ رہا ہے، جو قیمتوں کی غیر مستحکم حرکت کا باعث بن رہا ہے۔
اگر قیمت 68,000 ڈالر سے نیچے گر گئی تو مارکیٹ میں خودکار فروخت کا عمل شروع ہو سکتا ہے، جو قیمتوں میں مزید کمی کا باعث بنے گا۔ موجودہ صورتحال میں بٹ کوائن کی قیمت نے سال کے شروع کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی بدولت تاریخی بلند سطحوں کے قریب تجارت کر رہی ہے۔
ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ عالمی توانائی مارکیٹوں کے لیے خطرہ ہے، اور اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی مارکیٹوں اور کرپٹو کرنسی کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine