بٹ کوائن کی قیمت نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر $70,000 کی سطح کو چھوا، جس کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے متضاد بیانات اور خلیج ہرمز کے تناؤ میں اضافہ تھا۔ ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی دی جبکہ مذاکرات کے ذریعے جلد معاہدے کی بھی توقع ظاہر کی۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جس کے باعث بٹ کوائن کی قیمت میں تیزی اور اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
اس دوران، بٹ کوائن کی قیمت نے $69,300 کے قریب آ کر مستحکم ہونے کی کوشش کی، اور ڈیٹا کے مطابق 24 گھنٹوں میں تقریباً $255 ملین کی پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں، جن میں زیادہ تر شارٹ سیلرز شامل تھے۔ اس کے علاوہ، امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان 45 روزہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جس سے تنازعہ ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور خلیج ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی مارکیٹوں کو متاثر کیا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کرپٹو کرنسی جغرافیائی سیاسی بحرانوں کے دوران بھی اپنی جگہ برقرار رکھ رہی ہے۔ تاہم، اگر قیمت $65,000 سے نیچے گر گئی تو مارکیٹ میں مندی کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جغرافیائی سیاسی اور معاشی عوامل بٹ کوائن کی قیمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine