بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ دنوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو 70,000 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی مالی پالیسی میں سختی شامل ہیں۔ تیل کی قیمتیں، خاص طور پر برینٹ کروڈ، 114 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ عمان کروڈ کی قیمت 150 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کی وجہ سے ہے۔
فیڈرل ریزرو نے اپنی شرح سود کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان مستحکم رکھا ہے، جس سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اور خطرے والے اثاثوں کی طلب کم ہوئی ہے۔ اس فیصلے نے مالیاتی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھاوا دیا ہے، جس کا اثر بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں پر بھی پڑا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک توانائی کی قیمتیں بلند رہیں گی اور مرکزی بینک سخت مالی پالیسی جاری رکھیں گے، بٹ کوائن کی قیمت عام مالیاتی حالات کے مطابق ہی حرکت کرے گی۔ اس وقت 70,000 ڈالر کی سطح ایک اہم نفسیاتی حد کے طور پر سامنے آئی ہے، اور اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا تو قیمت میں مزید کمی کا امکان ہے۔
اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کے لیے محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ عالمی مالیاتی اور جغرافیائی حالات کی غیر یقینی صورتحال مارکیٹ کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine