بٹ کوائن (Bitcoin) کیا ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ بٹ کوائن، مشہور و معروف بٹ کوائن جس کی قیمت صرف پونے دو دہائی میں صفر سے ایک لاکھ ڈالر تک جا پہنچی، آخر یہ ہے کیا؟ کس نے بنایا؟ کہاں سے آیا؟ کیسے چلتا ہے؟ اور کیوں چلتا ہے؟ آئیے! اس تحریر میں ہم اسے آسان انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پیسے کا ارتقاء
برسہا برس گزرے! دنیا میں سونے اور چاندی کی حکومت تھی۔ زیادہ تر ممالک میں یہی دو کرنسیاں تھیں، کہیں سونا زیادہ استعمال ہوتا تھا تو کہیں چاندی۔ کچھ ممالک ایسے بھی تھے جہاں دیگر چیزیں بھی بطور کرنسی استعمال ہوتی تھیں لیکن ان کی تعداد کم تھی۔ سونے کی اشرفیاں اور چاندی کے سکے ہی عوام کا مال ہوتے تھے۔ لوگ تھیلیوں میں اشرفیاں بازار لے جاتے، چیزیں خریدتے اور ان کی ادائیگی کر دیا کرتے۔ یہاں تک معاملہ سادہ اور آسان تھا۔
پیچیدگی تب پیدا ہوتی تھی جب ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک تجارت کرنی ہوتی تھی۔ اشرفیاں ٹھوس ہوتی تھیں، یہ جگہ تو گھیرتی ہی تھیں، کھنکتی بھی تھیں۔ راستے ڈاکوؤں اور ٹھگوں سے بھرے ہوتے تھے، خونخوار قبیلے حملے کرتے تھے اور شاطر چور تاک میں بیٹھے ہوتے تھے۔ ایسے میں تجارت تو کی جائے لیکن اس کی ادائیگی کیسے ہو؟
اس کا حل ان ادوار کے بڑے تاجر گروپس اور خاندانوں نے نکالا۔ مشرق میں ان میں سر فہرست "کریمی مرچنٹس” تھے اور مغرب میں "مڈیچی فیملی”۔ یہ دونوں پندرہویں صدی اور اس سے پہلے اور بعد کے ادوار میں رہے۔ انہوں نے مختلف ممالک اور شہروں میں اپنے کاروباری نیٹ ورکس پھیلائے اور عام عوام کو یہ سہولت دی کہ وہ ایک جگہ رقم دے کر دوسری جگہ وصول کر سکیں۔ کریمی مرچنٹس کے یہاں اسے "سفتجہ” کہا جاتا تھا۔
صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے "صک” اور "حوالہ” کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ "صک” میں ایک شخص کسی بندرگاہ پر رقم ادا کر دیتا تھا اور اس کی وہ رقم دوسرے شہر میں تاجر تک پہنچ جاتی تھی۔ "حوالے” میں قرض کا ایک مضبوط نیٹ ورک ہوتا تھا جس کے ذریعے بغیر رقم ادا کیے کھاتے کلئیر کر لیے جاتے تھے۔ جدید بینکنگ کی یہ ایک بنیادی شکل تھی جو بین الاقوامی ادائیگیوں سے متعلق تمام اہم کام کیا کرتی تھی۔ مڈیچی فیملی یہی کام یورپ میں کرتی تھی۔ یوں ایک سے زیادہ شہروں اور ملکوں میں سہولت اور حفاظت کے ساتھ تجارت ممکن ہو پاتی تھی۔
وقت گزرا، صدیاں بیتیں اور اسی سلسلے نے جدید بینکوں کا روپ دھار لیا۔کچھ اور وقت گزرا تو ان بینکوں کو حکومتوں نے کنٹرول کرنا شروع کر دیا۔ حکومت عوام سے سونا لے لیا کرتی اور انہیں "بینک نوٹ” دے دیا کرتی۔ بوقت ضرورت لوگ نوٹ دے کر سونا وصول کر لیتے۔ جنگ عظیم اول اور دوم میں نوٹ زیادہ ہو گئے اور سونا انتہائی کم، چنانچہ بریٹن ووڈ کانفرنس میں طے ہوا کہ اب صرف ڈالر کے پیچھے سونا ہوگا۔ 1971ء میں امریکی معیشت کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر "نکسن” نے سونا دینے سے انکار کر دیا اور یوں کرنسی صرف کاغذ کا ٹکڑے رہ گئے۔ یہی آج تک ہماری کرنسی ہیں۔
اسی اور نوے کی دہائی میں دنیا انڈسٹریلائزیشن کے دور کے عروج سے گزر رہی تھی۔ سفر کی سہولیات آسان ہوئیں اور ٹرانسپورٹ سستی ہو گئی۔ دور دراز ممالک کے لوگوں نے آپس میں تجارت شروع کر دی۔ تجارت کی مقدار اور رفتار، دونوں بڑھتے گئے اور رفتہ رفتہ دنیا نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا کہ اب ڈالر کے حوالے اور چیکس بھی اس رفتار اور مقدار کو پورا نہیں کر سکتے۔ انٹرنیٹ آ چکا تھا اور تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ایسے میں آن لائن ادائیگیوں کا سلسلہ عام ہونا شروع ہو گیا جس میں ایک شخص ایک ملک میں بیٹھے بیٹھے دوسرے ملک میں ادائیگی کر سکتا تھا۔
ان ادائیگیوں کے لیے جو چیز اہم تھی وہ تھا ایک درمیانی واسطہ، چاہے وہ کوئی حکومت ہو یا کوئی ادارہ۔ قدیم زمانے میں درمیانی واسطہ تاجر ہوتا تھا جس کی ساکھ اس واسطے کو قابل اعتماد بناتی تھی۔ کریمی اور مڈیچی کے زمانے میں یہ واسطہ تجارتی نیٹ ورک ہوتا تھا اور قریبی زمانے میں بینک اور حکومتیں۔ دیکھنے میں یہ واسطہ پہلے سے مضبوط ہو چکا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ اب حکومتیں کسی کی ٹرانزیکشن کو جب چاہے روک سکتی تھیں اور اسے ایک سیاسی ہتھیار بنا سکتی تھیں۔
نہ صرف یہ بلکہ جنگیں، ملکوں کا ٹوٹنا اور معاشی حالات بھی ان واسطوں پر اثر انداز ہوتے تھے۔ چنانچہ 2001ء میں جب ارجنٹینا دیوالیہ ہوا تو اس کی بیرون ملک ادائیگیاں معطل ہو گئیں اور امپورٹرز کے لیے ایل سی کھلوانا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ ایسے میں دنیا بھر کے مختلف آئی ٹی کے ماہرین نے ایک ایسے پیمنٹ سسٹم کا سوچنا شروع کیا جو حکومتوں، اداروں اور افراد کے کنٹرول سے آزاد ہو، اسے روکا نہ جا سکے، اس میں کوئی گھپلا ممکن نہ ہو اور اسے دنیا میں کہیں بھی رقم کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
یہ سسٹم تقریباً پچیس سال کی مختلف کوششوں اور منصوبوں کے بعد آخر کار "بٹ کوائن” کی شکل میں وجود میں آیا۔ جب یہ وجود میں آیا تو دنیا 2008 کے معاشی کرائسس سے گزر رہی تھی۔ جنوری 2009 میں بٹ کوائن اپنی ٹیکنالوجی "بلاک چین” کو استعمال کرتے ہوئے شروع ہوا اور آج سترہ سال سے زائد ہو چکے ہیں کہ یہ بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔ درمیان میں اسے امریکا سمیت کچھ حکومتوں نے بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ آج اس سے دنیا میں کسی بھی جگہ رقم کی ترسیل ممکن ہے۔
بٹ کوائن۔۔۔!
ببٹ کوائن (Bitcoin) ہے کیا؟ سادہ الفاظ میں سمجھیں تو بٹ کوائن ایک ایسا ڈیجیٹل پیسہ ہے جو:
-
کسی بینک یا حکومت کے کنٹرول میں نہیں
-
انٹرنیٹ کے ذریعے براہِ راست منتقل کیا جا سکتا ہے
-
محدود مقدار میں موجود ہے
-
مکمل شفاف نظام پر چلتا ہے
اگر آپ سونے کو سمجھتے ہیں تو بٹ کوائن کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ سونا دنیا کی سب سے قیمتی دھاتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ زمین سے نکالا جاتا ہے۔ اس کے لیے مائننگ کی جاتی ہے، محنت درکار ہوتی ہے، وسائل خرچ ہوتے ہیں اور اس سب کے بعد بھی نکلنے والی مقدار اس کی ڈیمانڈ سے کم ہوتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ دنیا کی کسی بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتا۔ بعض ممالک اس کی قیمتوں پر تو کچھ نہ کچھ اثر انداز ہو سکتے ہیں لیکن اس کے وجود کو روک کوئی بھی نہیں سکتا۔
اسی طرح بٹ کوائن بھی "مائن” کیا جاتا ہے، لیکن زمین سے نہیں، بلکہ کمپیوٹرز کے ذریعے۔ اس میں بھی وسائل اور محنت لگتے ہیں اور اس سے نکلنے والی مقدار بھی محدود ہوتی ہے۔ بٹ کوائن کی مائننگ درحقیقت اس کی ویریفکیشن کا ایک طریقہ ہے جس پر بعد میں کبھی بات کریں گے۔ سر دست بس اتنا سمجھ لیجیے کہ:
-
طاقتور کمپیوٹرز پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرتے ہیں۔
-
جب کوئی کمپیوٹر مسئلہ حل کر لیتا ہے تو اسے انعام کے طور پر بٹ کوائن ملتا ہے۔
-
اس عمل کو مائننگ کہا جاتا ہے۔
-
اس میں بجلی اور کمپیوٹنگ پاور استعمال ہوتی ہے، جیسے سونے کی کان میں مشینری استعمال ہوتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ بٹ کوائن کی کل مقدار محدود ہے: صرف 21 ملین بٹ کوائن ہمیشہ وجود میں آئیں گے۔ یہی محدود سپلائی اسے سونے کی طرح، بلکہ اس سے بھی زیادہ قیمتی بناتی ہے۔
بلاک چین کیا ہے؟
بلاک چین وہ جادوئی ٹیکنالوجی ہے جس نے یہ ممکن بنایا کہ بٹ کوائن نیٹ ورک کبھی بھی روکا نہ جا سکے۔ اس پر بھی ہم تفصیل سے بات کریں گے۔ فی الحال اتنا تصور کر لیجیے کہ آپ کے پاس ایک ایسی کاپی ہے:
-
جس میں جو کچھ لکھ دیا جائے وہ کبھی مٹایا نہ جا سکے
-
سب لوگ اسے دیکھ سکیں
-
مگر کوئی اسے خفیہ طور پر تبدیل نہ کر سکے
یہی بٹ کوائن کا نظام ہے جسے بلاک چین کہا جاتا ہے۔ بلاک چین دراصل ایک عوامی لیجر (ریکارڈ بک) ہے:
-
ہر ٹرانزیکشن اس میں محفوظ ہوتی ہے
-
پوری دنیا کے ہزاروں کمپیوٹرز (نوڈز) اس کی کاپی رکھتے ہیں
-
اگر کوئی ریکارڈ بدلنے کی کوشش کرے تو باقی کمپیوٹر اسے مسترد کر دیتے ہیں
اسی وجہ سے بٹ کوائن کو ڈی سینٹرلائزڈ کہا جاتا ہے یعنی اس کا کنٹرول کسی ایک شخص، ادارے یا ملک کے پاس نہیں ہے۔
بٹ کوائن (Bitcoin) کی ابتدا
عام کرنسی اور بٹ کوائن کا فرق
ہماری آج کی فیاٹ کرنسیاں (ڈالر، یورو، روپے وغیرہ) یہ خصوصیات رکھتی ہیں:
-
حکومتیں جاری کرتی ہیں۔
-
مرکزی بینک کنٹرول کرتے ہیں۔
-
ضرورت پڑنے پر مزید نوٹ چھاپے جا سکتے ہیں۔
-
مہنگائی (Inflation) پیدا ہوتی ہے۔
ان کے مقابلے میں بٹ کوائن (Bitcoin) کی خصوصیات یہ ہیں:
-
کوئی حکومت اسے چھاپ نہیں سکتی۔
-
اس کی مقدار پہلے سے طے شدہ ہے۔
-
عالمی سطح پر ایک جیسا کام کرتا ہے۔
-
سرحدوں کا پابند نہیں۔
اگر عام کرنسی کو "مرکزی نظام” کہیں تو بٹ کوائن کو "عوامی نیٹ ورک” کہا جا سکتا ہے۔
سونے اور بٹ کوائن میں مماثلت
| خصوصیت | سونا | بٹ کوائن (Bitcoin) |
|---|---|---|
| محدود سپلائی | ہاں | ہاں (21 ملین) |
| مائننگ | زمین سے | کمپیوٹر کے ذریعے |
| عالمی قبولیت | تاریخی طور پر | تیزی سے بڑھتی ہوئی |
| ڈی سینٹرلائزڈ | بڑی حد تک | مکمل طور پر |
| ڈیجیٹل منتقلی | مشکل | آسان |
فرق صرف یہ ہے کہ سونا فزیکل ہے جبکہ بٹ کوائن مکمل ڈیجیٹل ہے اور کرپٹوگرافی سے محفوظ ہے۔
بٹ کوائن (Bitcoin) کیوں اہم ہے؟
بٹ کوائن میں چند ایسی خصوصیات ہیں جو اسے منفرد بناتی ہیں:
1. بارڈر لیس (Borderless)
آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں رقم بھیج سکتے ہیں، بغیر بینک کی اجازت کے۔
2. تیز رفتار منتقلی
عموماً ایک گھنٹے میں ادائیگی مکمل ہو جاتی ہے۔
3. کم فیس
بین الاقوامی بینک ٹرانسفر کے مقابلے میں اکثر کم خرچ ہوتا ہے۔
4. خود مختاری
آپ اپنی دولت کے خود نگران ہوتے ہیں بشرطیکہ آپ اپنی پرائیویٹ کی محفوظ رکھیں۔
عملی مثال
فرض کریں آپ کو بیرونِ ملک کسی عزیز کو رقم بھیجنی ہے:
روایتی طریقہ:
-
بینک جانا یا ایپ استعمال کرنا
-
ایکسچینج ریٹ کا نقصان
-
فیس
-
ممکنہ تاخیر
-
دستاویزی مراحل
بٹ کوائن کے ذریعے:
-
والٹ سے ٹرانسفر
-
نیٹ ورک فیس
-
چند منٹ انتظار
-
رقم موصول
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
کیا بٹ کوائن مکمل طور پر محفوظ ہے؟
بٹ کوائن کا نیٹ ورک انتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن کچھ چیزیں ذہن میں رکھنی چاہئیں:
-
قیمت میں اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔
-
اپنے والٹ کی سیکیورٹی نہایت اہم ہے۔
-
ریگولیشن مختلف ممالک کے مطابق مختلف ہے۔
اس لیے اسے سمجھ کر اور احتیاط سے استعمال کرنا ضروری ہے۔
مستقبل کی سمت
آج بٹ کوائن کے دنیا میں یہ استعمالات ہیں:
-
سرمایہ کاری کے آلے کے طور پر
-
مہنگائی سے بچاؤ کے طور پر
-
بین الاقوامی ادائیگی کے ذریعے کے طور پر
-
مالی آزادی کے تصور کے طور پر
دنیا بھر میں استعمال ہو رہا ہے۔
ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ مکمل متبادل نظام نہ بنے، لیکن یہ طے ہے کہ اس نے پیسے کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل دیا ہے۔ اس لیے اسے لازمی سمجھنا اور سیکھ لینا چاہیے۔ کرپٹو اردو ڈاٹ کام کا ٹیوٹوریل سیکشن ان چیزوں کے بارے میں تعلیم اور آگاہی پیدا کرنے کے بنایا گیا ہے اور ہماری ٹیم آپ کی خدمت کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔