امریکی وزارت خزانہ نے داعش کے 100 سے زائد کرپٹو پتے بند کر دیے، مالیاتی پابندیاں سخت

امریکہ کی وزارت خزانہ نے داعش کے شدت پسند گروہ ISIS-K کے 100 سے زائد کرپٹو کرنسی کے پتوں کو معطل کر دیا ہے جن کے ذریعے ایک ملین ڈالر سے زائد رقم کی منتقلی کی گئی تھی۔ داعش کے میڈیا ونگ کی جانب سے مختلف کرپٹو کرنسیوں جیسے ٹرون، مونیرو اور بٹ کوئن کے ذریعے مالی امداد حاصل کرنے کی کوششیں سامنے آئی ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کو روکنا اور کرپٹو کرنسی کے پلیٹ فارمز پر نگرانی کو مزید سخت کرنا ہے۔ اس ضمن میں مستحکم کرپٹو کرنسیوں (stablecoins) کے اجرا کرنے والے اداروں کا کردار بھی ابھرا ہے جو پابندیوں کے نفاذ میں اہم شراکت دار بن چکے ہیں۔

یہ قدم عالمی مالیاتی نظام میں کرپٹو کرنسی کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اس کے ذریعے مالیاتی جرائم کے امکانات کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ کرپٹو کرنسی کی ان غیر مرکزی خصوصیات نے روایتی مالیاتی نگرانی کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور ریگولیٹری خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کی پابندیاں سرمایہ کاری کے بہاؤ اور عالمی مارکیٹ کے جذبات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں کیونکہ بڑے مالیاتی ادارے اور ریگولیٹری ادارے اس غیر شفاف مالیاتی ماحول کو قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں عدم استحکام اور نظامی خطرات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

اس واقعہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں بڑھتی ہوئی نگرانی اور پابندیاں عالمی مالیاتی نظام میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف دہشت گردوں کی مالی معاونت میں رکاوٹ آئے گی بلکہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی بھی ممکن ہوگی۔ اس طرح کی کارروائیاں عالمی سطح پر مالیاتی شفافیت اور سلامتی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گی، جو کہ عالمی معیشت کی پائیداری اور استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: