امریکی سینیٹ نے ایک اہم ہاؤسنگ بل منظور کیا ہے جس میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے جاری کی جانے والی مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) پر 2030 تک پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس بل کا مقصد امریکہ کی ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا کو مستقل طور پر متاثر کرنا ہے۔ بل کو 85 کے مقابلے میں 5 ووٹوں سے منظور کیا گیا اور اس میں خاص طور پر فیڈرل ریزرو کو کسی بھی طرح کی CBDC جاری کرنے سے روکا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق براہ راست یا کسی ثالث کے ذریعے کرنسی جاری کرنے پر ہوگا۔ اس کے علاوہ، نجی مستحکم کرپٹو کرنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔ اس قانون کے تحت، فیڈرل ریزرو کی جانب سے ڈیجیٹل ڈالر کی تخلیق پر مکمل روک لگائی گئی ہے، جبکہ نجی شعبے کو اپنی کرپٹو کرنسیز کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر کرپٹو کرنسی کے صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے۔ اس کے علاوہ، اس بل کی منظوری کے بعد مستقبل میں ڈیجیٹل کرنسی کی ریگولیشن کے حوالے سے مزید قوانین متوقع ہیں جو کرپٹو مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔ اس قانون کے نفاذ سے امریکی مالیاتی نظام میں استحکام اور صارفین کی پرائیویسی کو تحفظ ملنے کی توقع ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine