امریکہ میں نجی شعبے کے مالی اثاثوں کی مجموعی قیمت ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6.7 گنا تک پہنچ گئی ہے، جو ایک نیا تاریخی ریکارڈ ہے۔ اس تناسب میں اسٹاکس، بانڈز اور دیگر مالی آلات شامل ہیں، جو 2021 میں قائم شدہ 6.3 گنا کے پچھلے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بنیاد پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اثاثوں کی قیمتیں اجرتوں کی نسبت تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ سرمایہ دار طبقہ خاص طور پر ایکویٹیز کی طرف مائل ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے پورٹ فولیو میں اس کی حصہ داری 65 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو دسمبر 2021 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس مالی رجحان کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے منافع کے امکانات بہتر ہو رہے ہیں۔ تاہم، اس طرح کی بڑھتی ہوئی مالیت معاشی عدم مساوات کو بھی بڑھا سکتی ہے اور مالیاتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔ مستقبل میں، اس رجحان کی نگرانی ضروری ہوگی تاکہ مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ مالیاتی بحرانوں سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance