امریکی سینیٹر کے مطابق کلیرٹی ایکٹ منظوری کے قریب ہے، خزانہ سیکرٹری نے اسے ‘1-یارڈ لائن’ پر قرار دیا

امریکی سینیٹر کیون کریمر نے بتایا ہے کہ کلیرٹی ایکٹ، جو کہ کرپٹو مارکیٹ کے ڈھانچے سے متعلق قانون ہے، منظوری کے قریب پہنچ چکا ہے۔ سینیٹ میں اس بل پر اتفاق رائے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے، خاص طور پر اخلاقیات اور نفاذ کے حوالے سے نئے ترامیم کے بعد۔ کریمر کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ان ترامیم کا جائزہ لینا ہے، جن میں کچھ اخلاقی پہلوؤں سے متعلق ہیں۔ اس بل کا مرکزی معاملہ یہ ہے کہ قانون کو کون نافذ کرے گا، اور اس حوالے سے غالب امکان ہے کہ محکمہ انصاف کو یہ اختیار دیا جائے گا تاکہ قواعد و ضوابط میں یکسانیت رہے۔ ڈیموکریٹس نے ریاستی اٹارنی جنرلز کو بھی نفاذ کا حصہ بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن اس سے قوانین میں تفاوت پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اس بل کا مقصد کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور استحکام لانا ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔ سینیٹ میں اس بل کی منظوری اگست کے شروع میں متوقع ہے، جو مارکیٹ میں استحکام کی علامت سمجھی جائے گی۔ تاہم، سیکورٹیز انٹرمیڈیریز کی تعریف پر ابھی کچھ اختلافات باقی ہیں، جو صنعت کے لیے اہم ہیں۔ کلیرٹی ایکٹ کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے درمیان تقسیم کی جائے گی، اور کرپٹو ایکسچینجز پر اینٹی منی لانڈرنگ اور پابندیوں کے قوانین کا اطلاق ہوگا۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے امریکی کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور قانونی استحکام آئے گا، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھائے گا اور مارکیٹ کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

شئیر کیجیے: