صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مارچ 2025 میں جاری کردہ حکم کے بعد سولہ ماہ گزرنے کے باوجود، امریکی بٹ کوائن ریزرو کے قیام میں تاخیر کا سامنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، خزانہ اور کامرس کے محکمے اس فنڈ کی ساخت پر متفق نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے منصوبہ سست روی کا شکار ہے۔ اس حکومتی منصوبے کا مقصد وفاقی بٹ کوائن ریزرو قائم کرنا تھا، جسے حکومتی قبضے میں موجود بٹ کوائن کے ذریعے مالی امداد دی جانی تھی۔ تاہم، دونوں محکموں کے درمیان یہ تنازعہ کہ کون سا ادارہ اس ریزرو کی نگرانی کرے گا، ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ مزید برآں، قانونی ماہرین نے بھی اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا خزانہ کے پاس اس ریزرو کو سنبھالنے کا قانونی اختیار ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے حکومت کے لیے اسے طویل مدت تک رکھنا بھی ایک چیلنج ہے۔ کانگریس میں اس منصوبے کی قانونی منظوری کے لیے ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، اور اگر اس سال کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز اکثریت کھو دیتے ہیں تو اس کی منظوری کا امکان کم ہو جائے گا۔ اس صورتحال کا فوری اثر مارکیٹ پر محدود ہے، مگر مستقبل میں اس منصوبے کی کامیابی یا ناکامی امریکی کرپٹو کرنسی کی پالیسی اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine