ترکی میں مارچ کے مہینے میں صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 30.87 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو مارکیٹ کی توقعات سے قدرے کم ہے۔ ماہرین نے مہنگائی کی شرح 31.40 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی تھی۔ یہ اعداد و شمار ملک کی معیشت میں جاری چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں جہاں حکومتی پالیسیاں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مہنگائی کی اس سطح نے صارفین کی خریداری کی طاقت پر دباؤ ڈالا ہے اور سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ شرح توقعات سے کم ہے، لیکن معیشت میں استحکام کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ آئندہ مہینوں میں قیمتوں کے استحکام کے لیے حکومتی پالیسیوں اور عالمی معاشی حالات پر نظر رکھی جائے گی تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے اور معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance