صدر ٹرمپ کے کوانٹم کمپیوٹنگ سے متعلق ایگزیکٹو آرڈرز کو صنعت کے رہنماؤں نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ یہ اقدامات کوانٹم ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر پوسٹ-کوانٹم سیکیورٹی اور کرپٹو کرنسی کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں ابھی اس نئی ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے اثرات کو سمجھنا اور اس کے مطابق حفاظتی اقدامات کرنا کرپٹو کرنسی کی استحکام کے لیے ضروری ہوگا۔ اس حوالے سے مزید تحقیق اور حکومتی پالیسیوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ مالیاتی نظام کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt