صدر ٹرمپ نے ایک اہم اجلاس منعقد کیا جس میں ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر عسکری کارروائیوں کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ یہ منصوبہ موجودہ امریکی حملوں سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرائی کا حامل ہے جو خلیج ہرمز کے ارد گرد جاری ہیں۔ امریکی فوج نے چار روز تک ایران کے جنوبی ساحل اور خلیج ہرمز کے علاقے میں فضائی دفاع، ریڈار نظام، میزائل کے ٹھکانوں اور ڈرون لانچنگ سائٹس پر حملے کیے ہیں جس کا مقصد ایران کی بحری جہازوں پر حملے کی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے۔ ایران نے امریکی اڈوں پر جوابی میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں پر بندش عائد کر دی ہے۔ گزشتہ ہفتے خلیج ہرمز سے 300 بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کی نگرانی بھی کی گئی ہے۔
یہ صورتحال عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے کیونکہ خلیج ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک کلیدی راستہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات سے تیل کی فراہمی میں خلل اور عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر یہ تنازعہ مزید بڑھتا ہے تو خطے میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام میں اضافہ ہو گا، جو عالمی سطح پر تاجر اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں، امریکی اور ایرانی حکمت عملیوں کے ارتقاء پر عالمی برادری کی نظر مرکوز ہے کیونکہ اس کا اثر عالمی سلامتی اور معاشی استحکام پر پڑے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance