ایران اور امریکہ کے درمیان ہرمز معاہدے پر اختلافات جاری

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہرمز کے راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عارضی معاہدہ اتوار کو دستخط کیا جائے گا، تاہم تہران نے اس دعوے کی فوری تردید کی ہے کیونکہ دونوں فریق اہم شرائط پر متفق نہیں ہو سکے۔ پاکستان، جو کہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر لی ہے جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر تکنیکی سطح کی بات چیت شروع ہوگی۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے تحت ہرمز کا راستہ سب کے لیے کھلا ہوگا اور ایران اب جوہری ہتھیار نہیں چاہتا۔ تاہم ایران نے جنگ کے نقصانات کے معاوضے اور امریکہ کی جانب سے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معاہدے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے لیکن ایک سرکاری ترجمان نے اتوار کو دستخط کی تردید کی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ حتمی شرائط کو ایران کے سپریم لیڈر کی منظوری درکار ہے۔ اس معاہدے کے ممکنہ اثرات میں خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تیل کی ترسیل میں استحکام شامل ہو سکتا ہے، تاہم سخت گیر حلقے اور سیاسی مخالفت معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: