تائیوان نے کرپٹو کرنسی کے لیے اہم قانون منظور کر لیا

تائیوان کی قانون ساز اسمبلی نے ورچوئل اثاثہ سروس ایکٹ کو منظوری دے دی ہے جو ملک کے کرپٹو سیکٹر کے لیے پہلا جامع قانونی فریم ورک ہے۔ اس قانون کے تحت تمام ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے لائسنسنگ کا نظام قائم کیا گیا ہے اور مالیاتی نگرانی کمیشن کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ اب کرپٹو کاروبار کو تائیوان میں کام کرنے کے لیے اس کمیشن کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ قانون میں سات مختلف اقسام کے فراہم کنندگان شامل ہیں جن میں ایکسچینجز، ٹریڈنگ پلیٹ فارمز، ٹرانسفر فرمیں، کسٹوڈینز، انڈر رائٹرز اور قرض دینے والی خدمات شامل ہیں۔

اس قانون کے تحت تائیوان میں پہلے مستحکم سکے (اسٹیبل کوائن) کے لیے بھی فریم ورک بنایا گیا ہے جس میں جاری کرنے والوں کو مرکزی بینک اور مالیاتی کمیشن دونوں کی منظوری لینا ہوگی۔ اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے اداروں کو مکمل ریزروز رکھنا ہوں گے، انہیں ٹرسٹ میں جمع کروانا ہوگا اور باقاعدہ آڈٹ اور عوامی انکشافات کرنا ہوں گے۔ اسٹیبل کوائن جاری کرنے کی اجازت صرف بینکوں کو دی گئی ہے تاکہ یہ اثاثہ کلاس مالیاتی اداروں سے منسلک رہے۔

قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں جن میں بغیر لائسنس کے کام کرنے یا بغیر اجازت اسٹیبل کوائن جاری کرنے پر سات سال تک قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں۔ فراڈ اور مارکیٹ میں مداخلت پر تین سے دس سال قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔

یہ قانون تائیوان کو ان ممالک کی صف میں کھڑا کرتا ہے جو کرپٹو کرنسی کے لیے واضح اور جامع قوانین بنا رہے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کا تحفظ کیا جا سکے اور صنعت کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ تائیوان کی حکومت نے پہلے ہی بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی ہے اور اس نئے قانون سے اس کی ڈیجیٹل مالیات میں دلچسپی کو قانونی شکل مل گئی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: