سوئس فرانک نے یورو کے مقابلے میں اپنی قیمت کو 2015 کے بعد سب سے بلند سطح کے قریب برقرار رکھا ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ اس صورتحال نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں سوئس فرانک کی قدر کو مستحکم کیا ہے، جبکہ سوئس نیشنل بینک نے حال ہی میں کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے لیے اپنی تیاری کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بین الاقوامی معیار کے مطابق کم مہنگائی، اور مالیاتی حالات کی بہتری سوئس فرانک کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ تجزیہ کار مائیکل فیسٹر کے مطابق، سوئس نیشنل بینک کے پاس اس رجحان کو روکنے کے لیے محدود اختیارات موجود ہیں۔ اس صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے لیے سوئس فرانک ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ مستقبل میں بھی اس کرنسی کی قدر میں استحکام یا اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، اگر جغرافیائی سیاسی حالات مزید بگڑتے ہیں تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance