سویڈش مرکزی بینک کے نائب گورنر جانسن نے توانائی کی بلند قیمتوں کے مہنگائی پر اثرات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی پر زیادہ تیز اثرات نہیں ڈالے گا جیسا کہ 2022 میں دیکھا گیا تھا، بلکہ اس کا اثر زیادہ تدریجی ہوگا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سویڈن میں مہنگائی کے دباؤ اور اقتصادی استحکام کے حوالے سے گفتگو جاری ہے۔ جانسن کے مطابق توانائی کی قیمتیں تو بلند ہیں، لیکن ان کا مہنگائی پر اثر گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کم نمایاں ہوگا۔ اس پیش رفت سے مارکیٹ میں کچھ حد تک استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ اور عالمی معاشی حالات کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس صورتحال میں صارفین اور کاروباری اداروں کو مہنگائی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance