سُوئی بلاک چین نے جون کے دسویں تاریخ سے اب تک تقریباً 65 ارب ڈالر کے زیرو-گیس اسٹیبل کوائن لین دین کی تصدیق کی ہے، جس کا اعلان بلاک چین سیکیورٹی فرم سرٹی ک نے کیا ہے۔ اس نیٹ ورک کی خاص بات یہ ہے کہ یہ زیرو-گیس ٹرانزیکشنز اضافی اخراجات کو ختم کرتی ہیں جو عام طور پر اسٹیبل کوائنز کی اپنانے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس سے فنڈز کو پیغامات کی طرح آزادانہ طور پر منتقل کرنے کی سہولت ملتی ہے، جو صارفین اور مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ سرٹی ک کے مطابق، 2024 کے آغاز سے سُوئی نیٹ ورک پر اسٹیبل کوائنز کے مجموعی لین دین کی مالیت 2.27 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس بلاک چین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس پیش رفت سے مارکیٹ میں اسٹیبل کوائنز کی قبولیت میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ صارفین کو کم لاگت اور تیز تر لین دین کی سہولت میسر آئے گی۔ مستقبل میں، اس ٹیکنالوجی کی مزید ترقی اور اس کے استعمال میں اضافہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں استحکام اور شفافیت کو فروغ دے سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اور ریگولیٹری چیلنجز بھی موجود ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance