STRC ایک ایسا مالیاتی آلہ ہے جو بظاہر بٹ کوائن کی حمایت میں پیش کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک غیر محفوظ، ذیلی درجے کا قرضہ ہے جس میں سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ اس سیکورٹی کی مارکیٹنگ میں اسے بٹ کوائن کی پشت پناہی اور محفوظ آمدنی کا ذریعہ بتایا جاتا ہے، مگر اس کی اصل ساخت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ STRC کے حاملین میں 82.7 فیصد ریٹیل سرمایہ کار شامل ہیں جو تقریباً 8.8 ارب ڈالر کی رقم رکھتے ہیں۔ یہ سیکورٹی کوئی معینہ میعاد نہیں رکھتی اور اس کا منافع بورڈ کی صوابدید پر منحصر ہے، جس کا مطلب ہے کہ منافع میں کمی یا بندش کا کوئی پیشگی نوٹس یا حق نہیں ہوتا۔ اس کی کریڈٹ ریٹنگ بھی جَنک سطح پر ہے، جو اس کی غیر محفوظ نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔
STRC کی آمدنی کمپنی کی اصل آمدنی سے کہیں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے منافع کی ادائیگی کے لیے نئے حصص جاری کیے جاتے ہیں یا عام شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں کمی کی جاتی ہے۔ یہ ایک خطرناک مالیاتی چکر ہے جو تب ٹوٹ سکتا ہے جب مارکیٹ میں دباؤ آئے، جیسے کریڈٹ ریٹنگ میں کمی، منافع کی عدم ادائیگی، یا بٹ کوائن کی قیمت میں کمی۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کے لیے بڑے نقصانات کا خدشہ ہوتا ہے کیونکہ اس آلے کی مالی ساخت اس دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتی۔
یہ صورتحال مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو بٹ کوائن کی حمایت میں STRC کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ مستقبل میں، اگر بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام نہ آیا یا کمپنی کی مالی حالت بہتر نہ ہوئی تو STRC کے حاملین کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine