اسٹیبل کوائن پر مبنی ادائیگیوں کے ممکنہ اثرات پر اسٹینفورڈ کے پروفیسر رُوژے جیا نے EASYResidency ورکشاپ میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبل کوائنز مالیاتی ڈھانچے کو خاص طور پر تقسیم شدہ مارکیٹوں میں نمایاں طور پر بدل سکتے ہیں۔ جیا نے بتایا کہ ادائیگی کے شعبے میں مسابقت تیز ہو رہی ہے اور جدید ایپلیکیشنز کی ترقی اس مقابلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے علی پی اور وی چیٹ پے کی مثال دی کہ کس طرح ادائیگی کے نظام پر کنٹرول مالیاتی خدمات جیسے بچت، قرضہ اور سرمایہ کاری کے لیے مرکزی ہب بننے کا باعث بنتا ہے۔ جیا نے کہا کہ اسٹیبل کوائنز اس ماڈل کی اگلی ترقی ہو سکتی ہیں، خاص طور پر کئی خطوں میں جہاں مارکیٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
اس پیش رفت کے فوری اثرات میں مالیاتی خدمات کی رسائی میں اضافہ اور ادائیگی کے نظام کی کارکردگی میں بہتری شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے اور ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا بھی ممکن ہے۔ مستقبل میں اس شعبے میں مزید جدت اور ممکنہ ضوابط کی توقع کی جا سکتی ہے جو مالیاتی نظام کو مزید مستحکم اور شفاف بنا سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance