سام بینک مین-فرائیڈ کی ایف ٹی ایکس فراڈ سزا کے خلاف اپیل کو وفاقی اپیل کورٹ نے مسترد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی 25 سال قید کی سزا برقرار رہی۔ یہ فیصلہ نیویارک کی دوسری امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین ججوں کی بنچ نے دیا، جنہوں نے مقدمے کی مضبوطی کو تسلیم کیا۔ بینک مین-فرائیڈ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایف ٹی ایکس کے صارفین کی رقم کو غلط طریقے سے استعمال کیا، جس کے باعث کرپٹو کرنسی کی تاریخ کے سب سے بڑے مالی بحرانوں میں سے ایک سامنے آیا۔ ایف ٹی ایکس کی قیمت 32 ارب ڈالر سے گر کر زوال پذیر ہو گئی جب اس کے مالیاتی بیانات میں بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ بینک مین-فرائیڈ کے سابقہ ساتھیوں نے بھی جرم قبول کیا اور ان کے خلاف گواہی دی۔ عدالت نے 11 ارب ڈالر کی ضبطی کا حکم دیا ہے اور بینک مین-فرائیڈ کو 2044 تک قید میں رہنا ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد ان کے قانونی راستے محدود ہو گئے ہیں، اور اب وہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ اس مقدمے کا اثر کرپٹو مارکیٹ پر نمایاں ہے کیونکہ یہ مالیاتی شفافیت اور قانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine