روس کا سب سے بڑا بینک، سبر بینک، دسمبر تک کرپٹو کرنسی کے لیے ایک مکمل انفراسٹرکچر قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک ڈیجیٹل ڈیپازٹری قائم کی جائے گی جو صارفین کے کرپٹو حقوق کو ریکارڈ کرے گی اور بلاک چین کے باہر ہونے والے لین دین کو بھی ٹریک کرے گی۔ اس کے علاوہ، یہ نظام صارفین کے آرڈرز کو پورا کرنے کے لیے والٹ ٹرانسفرز کو بھی سنبھالے گا۔ سبر بینک نے حال ہی میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک والٹ اور ڈیجیٹل اثاثہ کی کسٹوڈی سروس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ روس کی ریاستی دوما ایک نئے قانون پر غور کر رہی ہے جو کرپٹو کرنسیوں کی مکمل ریگولیشن فراہم کرے گا، جس میں ریٹیل خریداری، ایکسچینج ٹریڈنگ، کلیرنگ اور ڈیجیٹل ڈیپازٹریز شامل ہیں۔ اس قانون کے تحت سرمایہ کاروں کو کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے ایک ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا اور خریداری کی حد مقرر کی جائے گی۔ روس میں کرپٹو کرنسی کا استعمال ادائیگی کے طور پر 2022 سے غیر قانونی ہے، تاہم بین الاقوامی لین دین کے لیے اس کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام سے روس کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، خاص طور پر جب امریکہ اور یورپی ممالک نے روس کو سوئفٹ نظام سے خارج کر دیا تھا۔ سبر بینک اور دیگر بڑے روسی بینک نئے قوانین کے نفاذ کے بعد کرپٹو ٹریڈنگ سروسز شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، جو ملک میں کرپٹو کرنسی کے استعمال اور سرمایہ کاری کے لیے ایک نیا دور شروع کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine