روس نے اپنی منظوری یافتہ کرپٹو کرنسیوں کی فہرست میں امریکی ڈیجیٹل کرنسی USDC کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اعلان نائب وزیر خزانہ ایوان چیبیسکوف نے کیا ہے۔ اس فہرست میں پہلے سے USDT، بٹ کوائن اور ایتھیریم شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کرپٹو کرنسیوں کے قانونی دائرہ کار کو وسعت دینا اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید مواقع فراہم کرنا ہے۔ روسی مرکزی بینک نے پہلے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ فی الحال مزید ٹوکنز کو شامل نہیں کرے گا، تاہم نائب وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ یہ قدم منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔ مزید برآں، روس دوست ممالک کی چھوٹی فیاٹ بیکڈ سٹیبل کوائنز، جیسے روبل اور یو اے ای درہم کی سٹیبل کوائنز کو بھی اجازت دے سکتا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت غیر پیشہ ورانہ سرمایہ کاروں کو صرف وہ کرپٹو اثاثے خریدنے کی اجازت ہوگی جن کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن گزشتہ دو سالوں میں اوسطاً پانچ ٹریلین روبل سے زیادہ ہو۔ اس قانون سازی کے تحت، غیر پیشہ ورانہ سرمایہ کاروں کو قانونی طور پر کرپٹو مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی، تاہم ان کی سالانہ سرمایہ کاری کی حد 300,000 روبل مقرر کی جائے گی۔ یہ قانون یکم جولائی سے پہلے منظور ہونا ضروری ہے۔ اس اقدام سے روس میں کرپٹو کرنسی کے استعمال اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ مارکیٹ میں شفافیت اور ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی بھی ممکن ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance