روسی حکومت نے غیر قانونی کرپٹو کرنسی مائننگ کے خلاف سخت اقدامات کے طور پر ایک بل اسٹیٹ ڈوما میں پیش کیا ہے جس کے تحت پانچ سال تک قید اور 2.5 ملین روبل تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ روس میں تقریباً 50,000 افراد اور ادارے مائننگ میں ملوث ہیں، تاہم ان میں سے صرف 1,500 نے رجسٹریشن مکمل کی ہے۔ اس کے علاوہ، روس نے بوریاتیا اور ٹرانس-بائیکل علاقوں میں مائننگ پر پابندی کو 15 مارچ 2031 تک بڑھا دیا ہے، جس سے مائننگ پر پابندی والے علاقوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ ان علاقوں میں ایرکٹسک، ڈونٹسک، لوہانسک، زاپوریزھیا، خرسون اور شمالی قفقاز کے کئی علاقے شامل ہیں۔ ماسکو کے توانائی وزیر نے ماسکو اور اس کے گردونواح میں مائننگ پر پابندی کی تجویز دی ہے تاکہ بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ روس دنیا کے تین بڑے بٹ کوائن مائننگ مراکز میں شامل ہے، لیکن حکومت اب کمپیوٹنگ پاور کو مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز کے لیے ترجیح دے رہی ہے۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں غیر قانونی مائننگ کی سرگرمیوں میں کمی متوقع ہے اور توانائی کے استعمال میں بھی بہتری آئے گی، تاہم مائننگ پر پابندیوں کے باعث کچھ علاقوں میں کرپٹو کرنسی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance