امریکی سینیٹرز کریپٹو مارکیٹ کے لیے کلیرٹی ایکٹ کو منظور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط قائم کیے جا سکیں۔ ریپبلکن سینیٹر ڈیو مک کارمک نے کہا ہے کہ اس بل پر ووٹ جلد از جلد ہونا چاہیے، تاہم ڈیموکریٹس اس معاملے میں تاخیر کر رہے ہیں۔ اس بل کا مقصد صارفین کا تحفظ اور ڈیجیٹل اثاثوں میں جدت کو فروغ دینا ہے۔ اس وقت بل کی منظوری میں رکاوٹیں اس لیے پیدا ہو رہی ہیں کیونکہ کچھ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز صدر ٹرمپ کے کریپٹو کاروباری مفادات پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، بینکنگ حکام نے سٹیبل کوائنز کی پیداوار اور اخلاقیات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ بڑی مالیاتی ادارے اور کریپٹو لابی گروپس اس بل کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ کچھ قانون ساز اسے موجودہ شکل میں ناکافی سمجھتے ہیں۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ امریکی کریپٹو مارکیٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہوگا، جو صارفین کے حقوق کا تحفظ کرے گا اور مارکیٹ میں شفافیت لائے گا۔ آئندہ دنوں میں اس بل کی منظوری یا رد عمل مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ آیا دونوں سیاسی جماعتیں اس پر اتفاق کر پاتی ہیں یا نہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine