کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیزی سے ترقی نے نہ صرف بٹ کوائن بلکہ مختلف میسجنگ ایپس کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز کی طاقت سے انکرپٹڈ چیٹس کو مستقبل میں ‘ہاروِسٹ ناؤ، ڈیکرپٹ لیٹر’ کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے، یعنی موجودہ وقت میں ڈیٹا کو محفوظ کر کے بعد میں اسے کوانٹم کمپیوٹنگ کی مدد سے آسانی سے ڈی کرپٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال سے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ میں اس خطرے کی وجہ سے انکرپشن ٹیکنالوجیز کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے تاکہ مستقبل میں کوانٹم حملوں سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ، کمپنیوں اور صارفین کو بھی اپنی ڈیجیٹل معلومات کی حفاظت کے لیے نئے حفاظتی اقدامات اپنانا ہوں گے۔ اگرچہ کوانٹم کمپیوٹنگ ابھی مکمل طور پر عام نہیں ہوئی، لیکن اس کے اثرات کی پیشگی تیاری ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt