عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جہاں جی سیون کے مالیاتی وزراء نے ایران کے تنازع کے باعث بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی تیل کے ذخائر جاری کرنے پر بات چیت کی۔ ہائپرلیکویڈ پر خام تیل کی قیمتیں 114 ڈالر سے کم ہو کر 102 ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی کی مارکیٹ میں استحکام لانا اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کو روکنا ہے۔ اس پیش رفت سے صارفین اور صنعتوں کو وقتی ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مستقبل میں، اگر جی سیون ممالک نے مشترکہ طور پر ذخائر جاری کیے تو یہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام لا سکتا ہے۔ تاہم، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی عوامل اس صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء کو اس حوالے سے مزید پیش رفت پر نظر رکھنی چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk