بٹ کوائن کی قیمت حال ہی میں 67 ہزار ڈالر سے نیچے گر گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ مائیکرو سٹریٹیجی کے شیئرز میں نمایاں کمی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب کمپنی کے سی ای او، مائیکل سیلور نے سالوں بعد پہلی بار بٹ کوائن کی فروخت کی۔ اس اقدام نے مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے اور سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب، امریکی سیاستدان برنی سینڈرز اور ایلزبتھ وارن نے 401(k) ریٹائرمنٹ پلانز سے کرپٹو کرنسیوں کو نکالنے کی حمایت کی ہے، جس سے کرپٹو مارکیٹ پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ یہ سیاسی مطالبات کرپٹو کرنسیوں کی قانونی حیثیت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے کیونکہ اس سے کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ مستقبل میں، ممکنہ ریگولیٹری اقدامات اور مارکیٹ کی ردعمل پر نظر رکھنا ضروری ہوگا تاکہ سرمایہ کار بہتر فیصلے کر سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt