ان تھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سافٹ ویئر کی خامیوں کی دریافت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سائبر حملوں کے خطرات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی سافٹ ویئر میں موجود نقائص کو بڑے پیمانے پر بے نقاب کر رہی ہے، جو ہیکرز کے لیے حملے کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف کاروباری ادارے بلکہ عام صارفین بھی متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ حساس معلومات کی حفاظت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ میں اس پیش رفت کے فوری اثرات میں سیکیورٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ اور حفاظتی اقدامات میں سختی شامل ہے۔ مستقبل میں، اگر اس خطرے کو مؤثر طریقے سے کنٹرول نہ کیا گیا تو سائبر حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے حکومتی اور نجی شعبے کو مل کر جدید حفاظتی نظام اور قوانین بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt