مسسیپی کالج اسکول آف لاء نے اپنے پہلے سال کے طلباء کے لیے مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا ہے تاکہ وہ قانونی شعبے میں اس ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے جڑے خطرات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عدالتیں اور قانونی ادارے مصنوعی ذہانت کے مختلف پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس تعلیمی تبدیلی کا مقصد مستقبل کے وکلاء کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت دینا اور قانونی نظام میں اس کے اثرات کو مؤثر طریقے سے سنبھالنا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف طلباء کی پیشہ ورانہ قابلیت میں اضافہ ہوگا بلکہ قانونی نظام میں بھی ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو متوازن انداز میں اپنانے میں مدد ملے گی۔ آئندہ وقت میں دیگر قانون کے ادارے بھی اس طرح کی تربیت کو اپنانے پر غور کر سکتے ہیں تاکہ قانونی فریم ورک جدید دور کی ضروریات کے مطابق ہو۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt