عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ کیپ میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اب تقریباً 2.45 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار اور بڑھتی ہوئی شرح سود کو قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی معیشت میں تعمیراتی اور نقل و حمل کے شعبوں میں ملازمتوں کی کمی نے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ، خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی سرمایہ کاری واپس لینے کے امکانات اور روس و ایران کے درمیان جاری مذاکرات نے عالمی توانائی کے بازاروں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، جو عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ مارکیٹ میں دیگر کرپٹو کرنسیاں مخلوط رجحان دکھا رہی ہیں، جبکہ بائننس کی ٹریڈنگ والیوم میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور عالمی سیاسی و معاشی حالات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ عوامل مستقبل میں مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance