کریپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں حالیہ کمزوریوں کے باعث لیجر اور کونسنسیس جیسی بڑی کمپنیوں نے اپنے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے منصوبے مؤخر کر دیے ہیں۔ پیرس میں واقع ہارڈویئر والیٹ بنانے والی کمپنی لیجر نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کا عمل شروع نہیں کیا، جو کہ آئی پی او کی طرف ایک اہم قدم ہوتا ہے۔ کمپنی اب نجی سرمایہ کاری کے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ اس فیصلے کی وجہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی کم دلچسپی اور ٹوکن کی قیمتوں میں کمی ہے، جس نے نئی لسٹنگز کی طلب کو متاثر کیا ہے۔ اس سال کے آغاز میں لیجر نے اپنی قدر تقریباً چار ارب ڈالر تک پہنچانے کا امکان ظاہر کیا تھا، لیکن موجودہ حالات نے اس منصوبے کو روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر کمپنیوں جیسے کرکن اور کونسنسیس نے بھی اپنے آئی پی او کے شیڈول کو مؤخر کیا ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاری میں کمی نے کریپٹو اسٹاکس کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، جس سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود، لیجر نے امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں سابق سرکل ایگزیکٹو کی خدمات حاصل کرنا اور نیویارک میں ایک دفتر کھولنا شامل ہے۔ کمپنی کا مقصد بینکوں، اثاثہ مینیجرز اور اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں کو محفوظ ڈیجیٹل اثاثہ کی حفاظت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ عوامی پیشکشیں مؤخر ہو رہی ہیں، لیکن ادارہ جاتی سطح پر کریپٹو انفراسٹرکچر کی مانگ برقرار ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine