جاپان کے وزیر اعظم شِگیرُو ایشیبا نے کہا ہے کہ ملک میں خوراک کی مہنگائی میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے، تاہم یہ اب بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کی خوراک کی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ جاری ہے، جو صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ مہنگائی کی یہ صورتحال جاپان کی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے، خاص طور پر عام شہریوں کی روزمرہ کی ضروریات کی خریداری پر۔ حکومت کی جانب سے ممکنہ اقدامات اور پالیسیوں کے ذریعے اس مسئلے کو کم کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے اور صارفین کو ریلیف ملے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے مسائل اس مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ مستقبل میں اگر یہ رجحان برقرار رہا تو جاپان کی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے حکومتی حکمت عملی اور اقتصادی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance