جاپان کے سابق مرکزی بینک کے چیف ماہر اقتصادیات توشیتاکا سیکینے نے ایران میں جاری تنازعے کو مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے طور پر دیکھا ہے، جس کی وجہ سے جاپان کے مرکزی بینک کے لیے شرح سود میں اضافہ کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ سیکینے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اپریل کے آخر تک صورتحال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور اس وقت تک یہ معلوم ہو جائے گا کہ مشرق وسطیٰ کے حالات کا اثر عارضی ہے یا مستقل۔ جاپان جیسا ملک جو وسائل میں محدود ہے، اس تنازعے کے اثرات پر ماہرین کے درمیان بحث جاری ہے کہ آیا یہ مہنگائی میں اضافہ کرے گا یا کمی۔ تاہم سیکینے کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک اپریل 28 کو اپنی پالیسی کے تعین کے دوران شرح سود میں اضافے کے حق میں ہو سکتا ہے۔ مارچ کی پالیسی میٹنگ کے منٹس میں بھی مہنگائی کے خطرات پر کمیٹی کے ارکان کی بڑھتی ہوئی تشویش دیکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت کا اثر جاپان کی معیشت اور عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر پڑ سکتا ہے، جہاں شرح سود میں تبدیلیوں کا بڑا اثر ہوتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance