جاپان کی حکومت نے اپنی اقتصادی اور مالیاتی انتظامیہ کی بنیادی پالیسی میں ایک نوٹ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں بینک آف جاپان کی خودمختاری کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس نوٹ میں مرکزی بینک کی آزادی کو یقینی بنانے والے قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ حکومت مانیٹری پالیسی میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس اقدام کا مقصد مارکیٹ میں پائے جانے والے خدشات کو کم کرنا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ابتدائی مسودے نے مارکیٹ میں یین اور جاپانی سرکاری بانڈز کی فروخت کو بڑھا دیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بینک آف جاپان مستحکم قیمتوں میں اضافے کے لئے مناسب مانیٹری پالیسی کی رہنمائی جاری رکھے گا۔ یہ پالیسی بلیو پرنٹ پہلی بار تیار کی گئی ہے جب سناے تاکائیچی کی قیادت والی حکومت برسر اقتدار آئی ہے اور اسے آئندہ ہفتے کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے جاپانی مالیاتی مارکیٹ میں استحکام کی توقع کی جا رہی ہے اور یہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance