ایران کے چین میں سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے اعلان کیا ہے کہ ایران ہرمز کی تنگی سے گزرنے والی جہاز رانی کے لیے سروس فیس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ فیس بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگی اور اس کا مقصد جہاز رانی کی حفاظت، خدمات کی فراہمی اور ماحولیاتی تحفظ کے معمول کے اخراجات کو پورا کرنا ہے۔ سفیر نے بیجنگ میں 14ویں عالمی امن فورم کے دوران بتایا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز سے قبل ہرمز کی گذرگاہ بلا رکاوٹ کھلی تھی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ فیس ٹرانزٹ یا ٹیکس نہیں بلکہ سروس چارجز ہوں گے جو دنیا کے دیگر اہم پانی کے راستوں کی طرح ہیں۔ اس اقدام سے ہرمز کی گذرگاہ پر جہاز رانی کے معمولات میں بہتری آئے گی اور ایران و عمان کے مشترکہ انتظامات کے تحت اس علاقے میں نظم و نسق کی بحالی ممکن ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں تجارتی راستوں کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے مزید اقدامات متوقع ہیں، تاہم اس کے اثرات عالمی تیل کی سپلائی اور سمندری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance