ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ تنازعات بنیادی ڈھانچے تک پھیلتے ہیں تو اس کے اقتصادی اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسی صورت حال میں بین الاقوامی تیل کی قیمتیں طویل مدت تک تین ہندسوں میں رہ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر ممالک کی معیشتوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاروں اور تجارتی اداروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔ مستقبل میں اگر تنازعات میں اضافہ ہوا تو عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث عالمی معیشت میں سست روی اور مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance