ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ہرمز گزرگاہ سے گزرنے والے تیل کے جہازوں سے بٹ کوائن میں ٹول کی ادائیگی کی جائے گی تاکہ یہ ادائیگیاں پابندیوں کی وجہ سے ٹریس یا ضبط نہ کی جا سکیں۔ اس اقدام کا مقصد پابندیوں کے اثرات کو کم کرنا اور مالی لین دین کو محفوظ بنانا ہے۔ ایران کی یہ پالیسی عالمی تیل کی مارکیٹ اور کرپٹو کرنسی کے استعمال میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ایران کی آمدنی میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی قبولیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس اقدام سے بین الاقوامی تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جو ایران پر پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ میں اس خبر کے فوری اثرات محدود ہو سکتے ہیں، مگر مستقبل میں اس طرح کے اقدامات کرپٹو کرنسی کے استعمال کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt