ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو یقینی بنانا ہوگا کہ اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت نامے کی شرائط کی مکمل پابندی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے اور اگر دوسری طرف بھی سنجیدگی دکھائی گئی تو یہ عمل مرحلہ وار جاری رکھا جائے گا۔
خطیب زادہ نے خلیج ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ایران عمان کے تعاون سے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت نیویگیشن خدمات فراہم کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مفاہمت نامے میں طے شدہ 60 روزہ مدت کے دوران ایران عبوری فیس نہیں لے گا، تاہم اس کے بعد ایک نیا چینل مینجمنٹ میکانزم متعارف کرایا جائے گا جسے علاقائی ممالک کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں ایران کے منجمد شدہ تمام فنڈز کی ان فریزنگ شامل ہونی چاہیے۔ یہ پیش رفت خطے میں سفارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم قدم تصور کی جا رہی ہے، جس کے اثرات خطے کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance