ٹرمپ کے بیان کے بعد HYPE میں 11 فیصد اضافہ، Hyperliquid کو امریکا لانے کی کوشش تیز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے چیئرمین مائیکل سیلیگ، perpetual futures پلیٹ فارم Hyperliquid کو وفاقی قوانین کے تحت امریکا لانے کے لیے کام کر رہے ہیں، Hyperliquid کے مقامی ٹوکن HYPE کی قیمت میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ پیش رفت بدھ، 19 اگست 2026 کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ سرمایہ کاروں نے بیان کو اس امکان کے طور پر لیا کہ امریکا میں کرپٹو ڈیریویٹیوز کے لیے ایک باقاعدہ اور نسبتاً واضح قانونی راستہ تشکیل پا رہا ہے، جس سے HYPE کی طلب اور Hyperliquid کے کاروباری امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Perpetual futures ایسے ڈیریویٹو معاہدے ہوتے ہیں جن کی کوئی مقررہ میعاد ختم نہیں ہوتی اور funding rate کے ذریعے ان کی قیمت بنیادی اثاثے کے اسپاٹ ریٹ کے قریب رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ مصنوعات کرپٹو مارکیٹ میں مسلسل تجارت، قیمت دریافت کرنے اور خطرات سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں، تاہم ان میں لیوریج اور تیز لیکویڈیشن کے باعث نقصان کا خطرہ بھی نمایاں رہتا ہے۔ امریکی منڈی میں Hyperliquid کی ممکنہ موجودگی سے مقامی تاجروں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور مارکیٹ میکرز کو ایک نئے تجارتی ڈھانچے تک رسائی مل سکتی ہے، جبکہ پلیٹ فارم کو زیادہ گہری لیکویڈیٹی اور وسیع تر قانونی قبولیت حاصل ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے۔

یہ اعلان اس لیے بھی اہم ہے کہ CFTC نے 2026 میں کرپٹو perpetual contracts کے لیے امریکی ضابطہ جاتی فریم ورک پر توجہ بڑھائی ہے۔ کمیشن کے تحت بعض اداروں نے Hyperliquid سے متعلق اسپاٹ اور perpetual مصنوعات کی فائلنگز بھی جمع کرائی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے معاہدوں کو رجسٹرڈ ایکسچینجز کے ذریعے پیش کرنے کی عملی بنیاد تیار ہو رہی ہے۔ تاہم ٹرمپ کا بیان فوری منظوری، براہ راست امریکی لانچ یا تمام امریکی صارفین کے لیے دستیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ حتمی پیش رفت رجسٹریشن، نگرانی، صارفین کے تحفظ، مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے خلاف اقدامات اور ریاستی و وفاقی ضوابط کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ اس لیے HYPE میں حالیہ تیزی اگرچہ مثبت جذبات، ممکنہ ادارہ جاتی سرمائے اور بہتر مارکیٹ رسائی کی عکاس ہے، مگر ریگولیٹری تاخیر یا شرائط میں تبدیلی اس تیزی کو دوبارہ اتار چڑھاؤ میں بدل سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

شئیر کیجیے: