کرپٹو کرنسی کی دنیا میں حال ہی میں این تھروپک کے مائتھوس ماڈل نے سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ڈی فائی کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف حملہ آوروں کو طاقتور بنائے گی بلکہ دفاع کرنے والوں کو بھی مضبوط کرے گی۔ اس کے نتیجے میں، وہ پروجیکٹس جو سیکیورٹی کو اولین ترجیح دیتے ہیں، ان کے درمیان فرق مزید واضح ہو جائے گا۔ اس تبدیلی کا فوری اثر مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے جہاں صارفین اور سرمایہ کار زیادہ محفوظ پلیٹ فارمز کی طرف رجوع کریں گے۔ اس کے علاوہ، سیکورٹی کے معیار میں فرق بڑھنے سے کمزور پروجیکٹس کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جو کہ مجموعی طور پر کرپٹو انڈسٹری کی سالمیت کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں، اس ماڈل کی بدولت سیکورٹی کے نئے معیارات اور حکمت عملیوں کی ضرورت محسوس کی جائے گی تاکہ کرپٹو مارکیٹ کو محفوظ اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk