گوگل کی کوانٹم تحقیق نے بٹ کوائن کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ گوگل کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل کے کوانٹم کمپیوٹرز موجودہ انکرپشن کو زیادہ مؤثر طریقے سے توڑ سکتے ہیں، جس میں بٹ کوائن کے والٹس کی حفاظت کے لیے استعمال ہونے والی ایلیپٹک کرو انکرپشن بھی شامل ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، وہ حملے جو پہلے کئی دہائیوں بعد متوقع تھے، اب جلدی آ سکتے ہیں اور بعض حالات میں چند منٹوں میں انکرپشن کو توڑنے کی صلاحیت ممکن ہے۔ اگرچہ آج کے کوانٹم کمپیوٹرز اس حد تک طاقتور نہیں ہیں، مگر تحقیق نے ان وسائل کی مقدار کم کر دی ہے جو اس مقصد کے لیے درکار ہیں، جس سے تیاری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ بٹ کوائن نیٹ ورک کی ساخت ایسی ہے کہ اس کے ڈیجیٹل دستخط کو کوانٹم کمپیوٹرز کے ذریعے ریورس کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر وہ بٹ کوائن جو پرانے ایڈریس فارمیٹس میں محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ، جب بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن نشر کی جاتی ہے تو اس کا پبلک کی عارضی طور پر ظاہر ہوتا ہے، جسے حملہ آور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس صورتحال نے ڈویلپرز کو اس مسئلے کو محض نظری خطرہ سمجھنے سے ہٹ کر عملی حل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بٹ کوائن کے بانی اور دیگر ماہرین نے کہا ہے کہ کوانٹم مزاحم الگورتھمز کی طرف منتقلی ممکن ہے مگر اس کے لیے نیٹ ورک میں وسیع تعاون اور وقت درکار ہوگا۔ اس ضمن میں، بٹ کوائن کمیونٹی نے کوانٹم مزاحم دستخطوں کے تجرباتی نفاذ کے لیے کام شروع کر دیا ہے، تاہم یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور مکمل حل کے لیے کئی سال لگ سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت بٹ کوائن کے مستقبل کی سلامتی کے لیے اہم ہے اور صارفین و سرمایہ کاروں کو اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine