متحدہ عرب امارات کی قومی آئل کمپنی نے خلیج فارس میں اپنے ایل این جی پلانٹ سے برآمدات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنا اور عالمی منڈیوں میں تسلسل قائم رکھنا ہے۔ خلیج فارس میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے ہرمز کی تنگی سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی اس کوشش سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کی توقع ہے، تاہم خطے کی سیاسی صورتحال میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی سے برآمدات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال کو عالمی توانائی منڈیوں میں محتاط نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance