فیڈرل ریزرو نے سٹیبل کوائنز کے لیے نئے کسٹمر شناختی پروگرامز نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹ کو روایتی بینکوں کی طرح منی لانڈرنگ کے خلاف سخت ضوابط کے تحت لانا ہے۔ اس تجویز کے تحت، سٹیبل کوائن کے جاری کنندگان کو ہر نئے صارف سے قانونی نام، تاریخ پیدائش، جسمانی پتہ اور حکومتی شناختی نمبر حاصل کرنا ہوگا۔ یہ اقدام امریکی قانون سازی کے تحت پہلی بار سٹیبل کوائنز کے لیے مکمل احتیاطی تدابیر متعارف کرانے کی کوشش ہے۔ اس تجویز پر عوامی رائے شماری کا عمل 60 دن تک جاری رہے گا۔ فیڈرل ریزرو کے گورنر مائیکل بار نے سٹیبل کوائنز کے حوالے سے مالی استحکام اور ریگولیٹری خلا کے خدشات کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ تفصیلی قواعد و ضوابط ہی اس قانون کے مقاصد کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکتے ہیں۔ اس پیش رفت سے مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی اور صارفین کے تحفظ میں اضافہ ہوگا، تاہم اس کے نفاذ کے دوران کچھ تکنیکی اور قانونی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ آئندہ مہینوں میں اس تجویز کی حتمی منظوری اور اس کے اطلاق کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز رہے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine