بینک آف انگلینڈ نے مستحکم کوائن قواعد میں نرمی کی، مارکیٹ پر اثرات

بینک آف انگلینڈ نے حال ہی میں اپنے مستحکم کوائن (Stablecoin) کے حوالے سے قواعد و ضوابط میں نمایاں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت ذاتی ہولڈنگ کی حد کو ختم کر کے کل اجراء کی حد 40 ارب پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے، جو کہ مالیاتی استحکام کے لیے مجموعی سطح پر خطرات کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے علاوہ، ریزرو اثاثوں کی ضروریات میں بھی نرمی کی گئی ہے تاکہ مالیاتی اداروں اور کرپٹو کمپنیوں کے لیے یہ قواعد زیادہ قابل عمل بن سکیں۔ اس تبدیلی کا مقصد مستحکم کوائن کی صنعت کو فروغ دینا اور اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی نظام میں ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔ مارکیٹ میں اس فیصلے کے فوری اثرات مثبت سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ اس سے ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے اور برطانیہ کو عالمی کرپٹو مارکیٹ میں ایک اہم مقام مل سکتا ہے۔ تاہم، 2026 کے آخر تک حتمی قواعد کا نفاذ باقی ہے جس کے بعد ہی مکمل طور پر اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ اس دوران، دیگر ممالک کی جانب سے بھی کرپٹو کرنسی کے قوانین میں تبدیلیاں جاری ہیں، جو عالمی سطح پر اس صنعت کی ترقی اور ضابطہ کاری کے لیے اہم ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: