ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کرپٹو کرنسی کی سکیورٹی کو لاحق سب سے بڑا مسئلہ اس کی کرپٹوگرافی نہیں بلکہ اس کی سست حکمرانی ہے۔ جیسے جیسے ‘‘کیو-ڈے’’ یعنی کوانٹم کمپیوٹنگ کے مکمل عملی ہونے کا دن قریب آ رہا ہے، تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ موجودہ کرپٹو نیٹ ورکس کی حکمرانی کے نظام میں بہتری نہ لانے سے کوانٹم حملوں کے خلاف دفاع مشکل ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں، کرپٹو کرنسی صارفین اور سرمایہ کاروں کو ممکنہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ کوانٹم کمپیوٹرز روایتی انکرپشن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے، مارکیٹ میں موجود کرپٹو پلیٹ فارمز کو اپنی سکیورٹی پروٹوکولز کو جدید بنانے اور حکمرانی کے نظام کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس نئے چیلنج کا مقابلہ کر سکیں۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو کرپٹو مارکیٹ میں اعتماد متاثر ہو سکتا ہے اور سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے اور کرپٹو انڈسٹری کو مل کر اس مسئلے پر کام کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk