کریپٹو کرنسی کی دنیا میں اگلے بل رن کے لیے تین بڑی رکاوٹیں سامنے آئی ہیں جن کا ذکر STS ڈیجیٹل کے سی ای او میکسم سیلر نے کیا ہے۔ ان میں ادارہ جاتی آپشنز کی فروخت، مصنوعی ذہانت کی ترقی، اور امریکہ میں کرپٹو کرنسی کے ضوابط میں تاخیر شامل ہیں۔ یہ عوامل بٹ کوائن کی قیمت اور مارکیٹ کی سمت پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے آپشنز کی فروخت مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے سرمایہ کاری کے رجحانات کو تبدیل کیا ہے۔ امریکہ میں کرپٹو کرنسی کے ضوابط کی تاخیر نے بھی مارکیٹ کی ترقی کو محدود کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں اگر ضوابط واضح ہوئے اور تکنیکی ترقیوں کا مثبت اثر سامنے آیا تو مارکیٹ میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے، ورنہ یہ رکاوٹیں مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk