امریکی سینیٹر گلبرینڈ کا کہنا ہے کہ کریپٹو بل حکومتی اہلکاروں کی صنعت سے وابستگیوں پر پابندی کے بغیر آگے نہیں بڑھے گا

امریکہ کی ایک معروف ڈیموکریٹک سینیٹر نے کریپٹو کرنسی کے حوالے سے قانون سازی کے عمل میں ایک اہم مسئلہ اجاگر کیا ہے۔ سینیٹر گلبرینڈ نے کہا ہے کہ کریپٹو بل اس وقت تک پیش رفت نہیں کرے گا جب تک کہ حکومتی اہلکاروں، بشمول صدر، کی اس صنعت سے وابستگیوں پر پابندی نہ لگائی جائے۔ یہ موقف کلیرٹی ایکٹ کے مذاکرات کے دوران سامنے آیا ہے، جو کہ کریپٹو کرنسی کے ضوابط کو واضح کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس بل کا مقصد کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور احتساب کو بڑھانا ہے تاکہ مالیاتی نظام میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔ اس پابندی کے بغیر، قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ حکومتی اہلکاروں کی ذاتی دلچسپیاں قانون سازی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس پیش رفت کا کریپٹو مارکیٹ پر اثرات متوقع ہیں، کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کو حکومتی نگرانی اور ضابطہ کاری کے حوالے سے واضح اشارے ملیں گے۔ آئندہ دنوں میں اس بل پر مزید مذاکرات متوقع ہیں، جو کہ امریکی کریپٹو کرنسی کے مستقبل کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: