گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ایران کے حوالے سے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، تاہم بعد ازاں یہ قیمتیں گر کر 80 ڈالر کے قریب آ گئی ہیں۔ اس دوران امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے جلد ختم ہونے کے امکانات کا اظہار کیا، جس سے کرپٹو کرنسیاں اور اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں میں عارضی اعتماد بحال کیا ہے اور مارکیٹ میں مثبت ردعمل دیکھا گیا ہے۔ تاہم، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹ پر اس صورتحال کا گہرا اثر پڑ رہا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk