چین کے صوبہ ہونان کی عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں آٹھ افراد کو سزا سنائی ہے جس میں چھ اعشاریہ چون لاکھ یوآن سے زائد رقم شامل ہے۔ ملزمان نے ماؤتائی شراب کے جعلی لین دین کے ذریعے فنڈز کی منتقلی کو چھپانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ٹیلی کام فراڈ سے حاصل شدہ رقم کو ورچوئل کرنسی میں تبدیل کیا اور یہ رقم فراڈ کے اعلیٰ سطحی آپریٹرز کو واپس کی، جس کے بدلے ہر لین دین پر تقریباً آٹھ فیصد کمیشن وصول کیا جاتا تھا۔ سات ملزمان کو دو سے چھ سال قید کی سزا دی گئی جبکہ ایک کو معطل سزا دی گئی ہے۔ اس مقدمے سے ورچوئل کرنسی کے استعمال میں فراڈ اور منی لانڈرنگ کے خلاف قانونی کارروائیوں میں شدت کا پتہ چلتا ہے۔ اس فیصلے کا اثر ورچوئل کرنسی مارکیٹ اور صارفین پر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ آئندہ اس قسم کے کیسز میں مزید سختی کی توقع کی جا سکتی ہے تاکہ مالی جرائم کو روکا جا سکے اور مارکیٹ کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance